Sunan Abi Dawood Hadith 3510 (سنن أبي داود)

[3510] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (3243)

مسلم بن خالد ضعیف وقال الھیثمي: والجمھور ضعفہ (مجمع الزوائد 45/5) وقیل: تابعہ خالد بن مھران مختصرًا المرفوع فقط (تاریخ بغداد 8/ 297298) والسند إلیہ ضعیف

والحدیث السابق (الأصل: 3508) یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 124، 125

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا فَأَقَامَ عِنْدَہُ مَا شَاءَ اللہُ أَنْ يُقِيمَ ثُمَّ وَجَدَ بِہِ عَيْبًا فَخَاصَمَہُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَرَدَّہُ عَلَيْہِ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللہِ قَدْ اسْتَغَلَّ غُلَامِي فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ قَالَ أَبُو دَاوُد ہَذَا إِسْنَادٌ لَيْسَ بِذَاكَ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک شخص نے غلام خریدا ‘ پھر جب تک اللہ نے چاہا ‘ وہ اس کے پاس رہا۔بعد ازاں اسے غلام کے کسی عیب کی خبر ہوئی تو وہ اس کا معاملہ نبی کریم ﷺ کے پاس لے گیا۔آپ ﷺ نے اسے بیچنے والے کو واپس کرا دیا ‘ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام سے آمدنی بھی لی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’آمدنی کا وہی حقدار ہوتا ہے جو ضامن ہو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی سند معیاری نہیں ہے۔