Sunan Abi Dawood Hadith 3511 (سنن أبي داود)

[3511]حسن

وللحدیث شواھد عند ابن الجارود (624) وغیرہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ،حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ،حَدَّثَنَا أَبِي،عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ،أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ قَالَ: اشْتَرَی الْأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمْسِ مِنْ عَبْدِ اللہِ, بِعِشْرِينَ أَلْفًا،فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللہِ إِلَيْہِ فِي ثَمَنِہِمْ،فَقَالَ: إِنَّمَا أَخَذْتُہُمْ بِعَشَرَةِ آلَافٍ! فَقَالَ عَبْدُ اللہِ: فَاخْتَرْ رَجُلًا يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ،قَالَ الْأَشْعَثُ: أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ،قَالَ عَبْدُ اللہِ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ،وَلَيْسَ بَيْنَہُمَا بَيِّنَةٌ،فَہُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ،أَوْ يَتَتَارَكَانِ.

جناب عبدالرحمٰن بن قیس بن محمد بن اشعث اپنے والد (قیس) سے اور وہ عبدالرحمٰن کے دادا (محمد) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیس ہزار میں کچھ غلام خریدے جو کہ خمس کے تھے۔سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قیمت لینے کے لیے آدمی بھیجا ‘ تو اس نے کہا کہ میں نے انہیں دس ہزار میں لیا ہے۔سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی آدمی کو منتخب کر لو جو ہم میں فیصلہ کر دے۔سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ خود ہی میرے اور اپنے درمیان فیصلہ کر دیں۔تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ‘ آپ ﷺ فرماتے تھے ’’جب خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان اختلاف ہو جائے اور ان میں کوئی گواہ نہ ہو ‘ تو بات فروخت کرنے والے کی معتبر ہو گی ‘ یا وہ دونوں ہی سودا چھوڑ دیں۔‘‘