Sunan Abi Dawood Hadith 3523 (سنن أبي داود)
[3523]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ماجہ (2360 وسندہ حسن) أبو المعتمر بن عمرو بن رافع وثقہ غیر واحد بتصحیح حدیثہ فھو حسن الحدیث
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ہُوَ الطَّيَالِسِيُّ،حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ،عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ،عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ،قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا ہُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللہِ ﷺ: مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَہُ بِعَيْنِہِ،فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ.
جناب عمر بن خلدہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے ایک صاحب کے سلسلے میں ‘ جو مفلس ہو گیا تھا۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے فرمایا: میں ہر صورت رسول اللہ ﷺ والا فیصلہ کروں گا۔(فرمایا) جو شخص مفلس یا فوت ہو جائے اور مال والا بعینہ اپنا مال اس کے پاس پائے ‘ تو وہی اس مال کا زیادہ حقدار ہو گا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کون اس حدیث کو قبول کرے گا۔(راوی حدیث) ابوالمعتمر کون ہے؟ یعنی ہم اس کو نہیں جانتے۔