Sunan Abi Dawood Hadith 3527 (سنن أبي داود)
[3527]حسن
ولہ شاھد حسن عند أبي یعلٰی الموصلي (6110) والنسائي فی الکبریٰ (11236) وابن حبان (2508) مشکوۃ المصابیح (5012)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا زُہَيْرُ بْنُ حَرْبٍ, وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ،عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ،قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللہِ لَأُنَاسًا مَا ہُمْ بِأَنْبِيَاءَ،وَلَا شُہَدَاءَ،يَغْبِطُہُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّہَدَاءُ, يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَكَانِہِمْ مِنَ اللہِ تَعَالَی. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! تُخْبِرُنَا مَنْ ہُمْ؟ قَالَ: ہُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللہِ عَلَی غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَہُمْ،وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَہَا،فَوَاللہِ إِنَّ وُجُوہَہُمْ لَنُورٌ،وَإِنَّہُمْ عَلَی نُورٍ،لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ،وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ وَقَرَأَ ہَذِہِ الْآيَةَ: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللہِ لَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُونَ[يونس: 62].
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو نبی ہوں گے نہ شہید،مگر قیامت کے روز اللہ کے ہاں (بلند) مراتب و منازل کی وجہ سے انبیاء و شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بتائیں،وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ وہ لوگ ہوں گے جو آپس میں اللہ کی کتاب (یا اللہ کے ساتھ محبت) کی بنا پر محبت کرتے تھے۔حالانکہ ان کا آپس میں کوئی رشتہ ناتا یا مالی لین دین نہ تھا۔اللہ کی قسم! ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ لوگ نور پر ہوں گے۔جب لوگ خوف زدہ ہو رہے ہوں گے،تو انہیں کوئی خوف نہ ہو گا۔جب لوگ غمگین و پریشان ہو رہے ہوں گے،تو انہیں کوئی غم اور پریشانی نہ ہو گی۔‘‘ آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی ((ألا إن أولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ہم یحزنو)) ’’آگاہ رہو! اللہ کے ولیوں کو کوئی خوف ہو گا،نہ وہ غم کھائیں گے۔‘‘