Sunan Abi Dawood Hadith 3532 (سنن أبي داود)

[3532]صحیح

صحیح بخاری (2211) صحیح مسلم (1714)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ،حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ،أَنَّ ہِنْدًا-أُمَّ مُعَاوِيَةَ-جَاءَتْ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ،وَإِنَّہُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ! فَہَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِہِ شَيْئًا؟ قَالَ: خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَبَنِيكِ بِالْمَعْرُوفِ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند ام معاویہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا: بیشک (میرا شوہر) ابوسفیان بخیل آدمی ہے اور مجھے اس قدر نہیں دیتا جو مجھے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو۔اگر میں اس کے مال میں سے کچھ لے لوں،تو کیا مجھے کوئی گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس قدر لے لیا کرو جو دستور کے مطابق تجھے اور تیرے بچوں کے لیے کافی ہو۔‘‘