Sunan Abi Dawood Hadith 3542 (سنن أبي داود)
[3542] إسنادہ ضعیف
مجالد ضعیف
وللحدیث شواھد ضعیفۃ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ وَأَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ وَأَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ الشَّعْبِيِّ وَأَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ أَنْحَلَنِي أَبِي نُحْلًا قَالَ إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نِحْلَةً غُلَامًا لَہُ قَالَ فَقَالَتْ لَہُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ ائْتِ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَأَشْہِدْہُ فَأَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَأَشْہَدَہُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَہُ فَقَالَ لَہُ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْہِدَكَ عَلَی ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاہُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَكُلَّہُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ قَالَ لَا قَالَ فَقَالَ بَعْضُ ہَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ ہَذَا جَوْرٌ وَقَالَ بَعْضُہُمْ ہَذَا تَلْجِئَةٌ فَأَشْہِدْ عَلَی ہَذَا غَيْرِي قَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِہِ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَشْہِدْ عَلَی ہَذَا غَيْرِي وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِہِ إِنَّ لَہُمْ عَلَيْكَ مِنْ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَہُمْ كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْہِمْ مِنْ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ قَالَ أَبُو دَاوُد فِي حَدِيثِ الزُّہْرِيِّ قَالَ بَعْضُہُمْ أَكُلَّ بَنِيكَ وَقَالَ بَعْضُہُمْ وَلَدِكَ وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ فِيہِ أَلَكَ بَنُونَ سِوَاہُ وَقَالَ أَبُو الضُّحَی عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُہُ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے ایک عطیہ دیا۔اسماعیل بن سالم نے یوں کہا: دوسرے بچوں کے مقابلے میں مجھے اپنا ایک غلام عطیہ کیا۔پس میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور انہیں اس عطیے پر گواہ بنا لو۔چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ ﷺ کو گواہ بنانے کے لیے یہ بات بتائی اور کہا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو عطیہ دیا ہے اور (میری اہلیہ) عمرہ نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ ﷺ کو اس پر گواہ بنا لوں۔رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا ’’کیا تیرے اس کے علاوہ اور بھی بچے ہیں؟‘‘ کہا کہ ہاں۔فرمایا ’’تو کیا تو نے ان سب کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے جو نعمان کو دیا ہے؟‘‘ کہا: نہیں۔یہاں بعض محدثین کے لفظ ہیں: ’’یہ ظلم ہے۔‘‘ اور بعض نے کہا: ’’یہ مجبوری اور لاچاری کا معاملہ ہے۔(خوشی کا نہیں ورنہ تو سبھی کو دیتا) اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لے۔‘‘ مغیرہ کی روایت میں ہے۔’’کیا تجھے پسند نہیں کہ تیرے ساتھ خدمت اور احسان کرنے میں سب بچے برابر ہوں؟‘‘ کہا: ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لے۔‘‘ مجالد کے الفاظ ہیں ’’ان کا تجھ پر یہ حق ہے کہ تو ان سب میں عدل کرے جیسے کہ ان سب پر لازم ہے کہ تیری خدمت کریں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا بعض راویوں نے ((أکل بنیک)) کہا: اور بعض نے ((ولدک)) کہا۔ابن ابی خالد نے شعبی سے روایت کرتے ہوئے کہا: ((ألک بنون سواہ)) ’’کیا تیرے اس کے علاوہ بھی بیٹے ہیں؟‘‘ اور ابوالضحیٰ نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ((ألک ولد غیرہ))۔