Sunan Abi Dawood Hadith 3565 (سنن أبي داود)
[3565]حسن
أخرجہ ابن ماجہ (2398 وسندہ حسن) والترمذي (1265 وسندہ حسن، 670) إسماعیل بن عیاش صرح بالسماع عند أحمد (5/267) مشکوۃ المصابیح (2956)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ،حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ،عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ،قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ،قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ،يَقُولُ: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَی كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّہُ،فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ،وَلَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِہَا،إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِہَا. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللہِ! وَلَا الطَّعَامَ؟, قَالَ: ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا،ثُمَّ قَالَ: الْعَوَرُ مُؤَدَّاةٌ،وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ،وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ،وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ ﷺ فرماتے تھے ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب کسی وارث کے لیے وصیت نہیں ‘ اور کوئی عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔‘‘ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! طعام بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تو ہمارے افضل اموال میں سے ہوتا ہے۔‘‘ پھر فرمایا ’’مانگے کی چیز واپس کرنا ہو گی۔اور دودھ کا جانور ‘ جو عطیہ دیا گیا ہو ‘ لوٹایا جاتا ہے۔قرض ادا کرنا لازم ہے اور ضامن آدمی ذمہ ادا کرے گا۔‘‘