Sunan Abi Dawood Hadith 3567 (سنن أبي داود)

[3567]صحیح

صحیح بخاری (2481)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِہِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَی أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمِہَا قَصْعَةً فِيہَا طَعَامٌ قَالَ فَضَرَبَتْ بِيَدِہَا فَكَسَرَتْ الْقَصْعَةَ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی فَأَخَذَ النَّبِيُّ ﷺ الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاہُمَا إِلَی الْأُخْرَی فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيہَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ غَارَتْ أُمُّكُمْ زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّی كُلُوا فَأَكَلُوا حَتَّی جَاءَتْ قَصْعَتُہَا الَّتِي فِي بَيْتِہَا ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَی لَفْظِ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ قَالَ كُلُوا وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّی فَرَغُوا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَی الرَّسُولِ وَحَبَسَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِہِ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ایک اہلیہ کے گھر میں تھے کہ امہات المؤمنین میں سے کسی دوسری نے خادمہ کے ہاتھ (ان کی خدمت میں) ایک پیالہ بھیجا جس میں کھانا تھا۔گھر والی نے اپنا ہاتھ مارا اور پیالہ توڑ دیا۔ابن مثنیٰ نے بیان کیا۔تو نبی کریم ﷺ نے ٹوٹے ہوئے دونوں ٹکڑے پکڑے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور کھانا اس میں ڈالنے لگے اور فرماتے جاتے تھے۔’’تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے۔’’ابن مثنیٰ نے اضافہ کیا۔’’کھاؤ۔‘‘ چنانچہ سب نے کھایا۔حتیٰ کہ وہ (اہلیہ) پیالہ لے کر آ گئی جو اس کے گھر میں تھا۔(ہم مسدد کی حدیث کے الفاظ کی طرف رجوع کرتے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا ’’کھاؤ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے خادمہ کو پیالے کے لیے روکے رکھا حتیٰ کہ وہ کھانے سے فارغ ہو گئے۔پھر آپ ﷺ نے صحیح سالم پیالہ خادمہ کے حوالے کیا اور ٹوٹا ہوا گھر میں رکھ لیا۔