Sunan Abi Dawood Hadith 3568 (سنن أبي داود)
[3568]إسنادہ حسن
أخرجہ النسائي (3409 وسندہ حسن) جسرۃ بنت دجاجۃ مختلف فیھا وحدیثھا حسن علی الراجح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا مَا رَأَيْتُ صَانِعًا طَعَامًا مِثْلَ صَفِيَّةَ صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ طَعَامًا فَبَعَثَتْ بِہِ فَأَخَذَنِي أَفْكَلٌ فَكَسَرْتُ الْإِنَاءَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْتُ قَالَ إِنَاءٌ مِثْلُ إِنَاءٍ وَطَعَامٌ مِثْلُ طَعَامٍ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کوئی عورت نہیں دیکھی جو صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا کھانا بنانے والی ہو۔اس نے رسول اللہ ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں (میرے گھر میں) بھیج دیا۔مجھے اس پر طیش آ گیا ‘ تو میں نے برتن توڑ دیا۔پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کا کیا کفارہ ہے جو میں نے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’برتن کے بدلے برتن اور کھانے کے بدلے کھانا۔‘‘