Sunan Abi Dawood Hadith 3581 (سنن أبي داود)

[3581]صحیح

صحیح مسلم (1833)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ يَا أَيُّہَا النَّاسُ مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَی عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْہُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَہُ فَہُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِہِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْہِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنْ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلَی عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِہِ وَكَثِيرِہِ فَمَا أُوتِيَ مِنْہُ أَخَذَہُ وَمَا نُہِيَ عَنْہُ انْتَہَی

سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’لوگو! تم میں سے جس کسی کو ہماری طرف سے کوئی عملداری سونپی گئی ہو ‘ پھر اس نے اس کے محاصل میں سے کوئی سوئی یا اس سے بھی کم یا زیادہ کو چھپا لیا ‘ تو وہ طوق ہے جسے پہنے ہوئے وہ قیامت کے روز حاضر ہو گا۔‘‘ تو کالے سے رنگ کا ‘ ایک انصاری جوان کھڑا ہو گیا ‘ گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں۔کہنے لگا: اے اﷲ کے رسول! مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئیے۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے کہا: میں نے آپ کو سنا ہے کہ آپ یوں یوں فرما رہے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’(ہاں) میں یہی کہتا ہوں۔جس کو ہم نے کوئی کام سونپا ہو تو اسے چاہیئے کہ اس کے محاصل ‘ تھوڑے ہوں یا زیادہ ‘ سب لے آئے۔اور پھر اس میں سے جو اسے (حق الخدمت) دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے اس سے رک جائے۔‘‘