Sunan Abi Dawood Hadith 3582 (سنن أبي داود)
[3582] إسنادہ ضعیف
ترمذی (1331)
شریک مدلس وعنعن وحنش بن المعتمر ضعیف ضعفہ الجمھور
وللحدیث شواھد معنویۃ عند ابن ماجہ (2310 سندہ ضعیف) وغیرہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْہِ السَّلَام قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی الْيَمَنِ قَاضِيًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ فَقَالَ إِنَّ اللہَ سَيَہْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ فَإِذَا جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِيَنَّ حَتَّی تَسْمَعَ مِنْ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنْ الْأَوَّلِ فَإِنَّہُ أَحْرَی أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ قَالَ فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا أَوْ مَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن کا قاضی بنا کر روانہ فرمایا تو میں نے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! میں نوعمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا علم نہیں ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یقیناً اﷲ تعالیٰ تمہارے دل کو ہدایت دے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا۔جب مقدمے کے دو فریق تمہارے سامنے بیٹھیں تو اس وقت تک ہرگز فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے سے سن نہ لینا جیسے کہ پہلے سے سنا ہو۔بلاشبہ یہی چیز زیادہ لائق ہے کہ فیصلہ تمہارے لیے واضح ہو جائے۔‘‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ میں وہاں قاضی بنا رہا یا (فرمایا) مجھے اس کے بعد فیصلہ کرنے میں کوئی تردد نہیں ہوا۔