Sunan Abi Dawood Hadith 3583 (سنن أبي داود)
[3583]صحیح
صحیح بخاری (6967) صحیح مسلم (1713)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ،وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ،وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہِ مِنْ بَعْضٍ،فَأَقْضِيَ لَہُ عَلَی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْہُ! فَمَنْ قَضَيْتُ لَہُ مِنْ حَقِّ أَخِيہِ بِشَيْءٍ فَلَا يَأْخُذْ مِنْہُ شَيْئًا, فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ.
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں ایک بشر ہوں ‘ تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے کے مقابلے میں اپنی حجت پیش کرنے میں زیادہ چرب زبان ہو اور پھر میں اس سے سننے کے مطابق فیصلہ کر دوں ‘ تو جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس سے کچھ نہ لے۔بلاشبہ میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں۔‘‘