Sunan Abi Dawood Hadith 3584 (سنن أبي داود)

[3584]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (3770)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ،حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ،عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،قَالَتْ: أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ لَہُمَا،لَمْ تَكُنْ لَہُمَا بَيِّنَةٌ إِلَّا دَعْوَاہُمَا،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ... فَذَكَرَ مِثْلَہُ،فَبَكَی الرَّجُلَانِ،وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا: حَقِّي لَكَ! فَقَالَ لَہُمَا النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: أَمَّا إِذْ فَعَلْتُمَا مَا فَعَلْتُمَا, فَاقْتَسِمَا،وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ،ثُمَّ اسْتَہَمَا ثُمَّ تَحَالَّا.

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو آدمی آئے ان کا میراث کے معاملے میں جھگڑا تھا اور ان کے پاس سوائے اپنے اپنے دعوے کے اور کوئی گواہ نہ تھا۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور مذکورہ بالا حدیث کی مثل بیان کیا۔چنانچہ وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا: میرا حق تیرے لیے ہے۔پھر نبی کریم ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا ’’جب تم ایسا کرتے ہو تو آپس میں تقسیم کر لو اور حق کا قصد کرو پھر آپس میں قرعہ ڈال لو (حصے کی تعیین کے لیے) پھر ممکنہ زیادتی ایک دوسرے سے معاف کرا لو۔‘‘