Sunan Abi Dawood Hadith 3597 (سنن أبي داود)

[3597]إسنادہ صحیح

مشکوۃ المصابیح (3611)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ،حَدَّثَنَا عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ،عَنْ يَحْيَی بْنِ رَاشِدٍ،قَالَ: جَلَسْنَا لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ،فَخَرَجَ إِلَيْنَا،فَجَلَسَ،فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،يَقُولُ: مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللہِ, فَقَدْ ضَادَّ اللہَ،وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَہُوَ يَعْلَمُہُ, لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللہِ حَتَّی يَنْزِعَ عَنْہُ،وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيہِ, أَسْكَنَہُ اللہُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ،حَتَّی يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ.

یحییٰ بن راشد نے بیان کیا کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے انتظار میں بیٹھے تھے حتیٰ کہ وہ تشریف لے آئے اور بیٹھے پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ‘ آپ ﷺ فرماتے تھے ’’جس شخص کی سفارش اللہ کی کسی حد کی تنفیذ میں آڑے آئی،تحقیق اس نے اﷲ کی مخالفت کی اور جس نے جانتے بوجھتے باطل (کی حمایت) میں جھگڑا کیا تو وہ اﷲ کی ناراضی میں رہے گا حتیٰ کہ اس سے باز آ جائے اور جس نے کسی مومن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اﷲ اسے جہنمیوں کی پیپ میں ڈالے گا (وہ اسی کا مستحق رہے گا) حتیٰ کہ اپنی بات سے باز آ جائے۔‘‘