Sunan Abi Dawood Hadith 3599 (سنن أبي داود)

[3599] إسنادہ ضعیف

ترمذی (2299،2300) ابن ماجہ (2372)

حبیب بن النعمان: مجہول (التحریر: 1108) وثقہ ابن حبان وحدہ من المتقدمین

وزیاد العصفري أبو سفیان: مجہول (التحریر: 2108)

انوار الصحیفہ ص 128

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ مُوسَی الْبَلْخِيُّ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،حَدَّثَنِي سُفْيَانُ يَعْنِي الْعُصْفُرِيَّ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ حَبِيبِ ابْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ،عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ،قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا, فَقَالَ: عُدِلَتْ شَہَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللہِ. ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَرَأَ: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّہِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِہِ[الحج: 30].

سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی۔جب اس سے فارغ ہوئے تو سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا ’’جھوٹی گواہی دینا ‘ اﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے برابر ہے۔تین بار فرمایا۔پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ((فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور،حنفاء للہ غیر مشرکین بہ)) ’’بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو ‘ اﷲ کی طرف یکسو رہو اس حال میں کہ اس کے ساتھ شرک کرنے والے نہ ہو۔‘‘