Sunan Abi Dawood Hadith 3605 (سنن أبي داود)
[3605] إسنادہ ضعیف
زکریا بن أبي زائدۃ عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسین: 2/47 وھو من الثالثۃ)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَاءَ ہَذِہِ وَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُشْہِدُہُ عَلَی وَصِيَّتِہِ فَأَشْہَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَہْلِ الْكِتَابِ فَقَدِمَا الْكُوفَةَ فَأَتَيَا أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِيَّ فَأَخْبَرَاہُ وَقَدِمَا بِتَرِكَتِہِ وَوَصِيَّتِہِ فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ ہَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَحْلَفَہُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ بِاللہِ مَا خَانَا وَلَا كَذَبَا وَلَا بَدَّلَا وَلَا كَتَمَا وَلَا غَيَّرَا وَإِنَّہَا لَوَصِيَّةُ الرَّجُلِ وَتَرِكَتُہُ فَأَمْضَی شَہَادَتَہُمَا
جناب شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان کی دقوقاء مقام پر وفات ہو گئی۔اسے کوئی مسلمان نہ ملا جو اس کی وصیت پر گواہ ہوتا۔تو اس نے اہل کتاب کے دو آدمیوں کو گواہ بنایا۔پھر وہ دونوں کوفہ میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کو اس کی خبر دی اور اس کا ترکہ اور وصیت بھی پیش کی۔سیدنا اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے دور کے بعد نہیں ہوا ہے۔تو انہوں نے عصر کے بعد ان سے اللہ کے نام کی قسم لی کہ انہوں نے کسی قسم کی خیانت ‘ جھوٹ یا تبدیلی نہیں کی ہے ‘ کچھ چھپایا ہے نہ کوئی تغییر کی ہے ‘ اور اس میت کی وصیت اور ترکہ یہی کچھ ہے۔چنانچہ انہوں نے ان کی گواہی کو قبول کر لیا۔