Sunan Abi Dawood Hadith 3612 (سنن أبي داود)

[3612] إسنادہ ضعیف

عمار بن شعیث لم أجد من وثقہ صراحۃ فھو: مجہول الحال کما فی التحریر (4837)

والحدیث مع ذلک حسنہ ابن عبد البر!

انوار الصحیفہ ص 128

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْثِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ،حَدَّثَنِي أَبِي،قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي الزُّبَيْبَ،يَقُولُ: بَعَثَ نَبِيُّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،جَيْشًا إِلَی بَنِي الْعَنْبَرِ،فَأَخَذُوہُمْ بِرُكْبَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ،فَاسْتَاقُوہُمْ إِلَی نَبِيِّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَرَكِبْتُ،فَسَبَقْتُہُمْ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللہِ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ،أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا،وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ،فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرِ،قَالَ لِي نَبِيُّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ہَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَی أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي ہَذِہِ الْأَيَّامِ؟،قُلْتُ: نَعَمْ،قَالَ: مَنْ بَيِّنَتُكَ؟،قُلْتُ: سَمُرَةُ, رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ،وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاہُ لَہُ،فَشَہِدَ الرَّجُلُ،وَأَبَی سَمُرَةُ أَنْ يَشْہَدَ! فَقَالَ نَبِيُّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَبَی أَنْ يَشْہَدَ لَكَ! فَتَحْلِفُ مَعَ شَاہِدِكَ الْآخَرِ؟. قُلْتُ: نَعَمْ،فَاسْتَحْلَفَنِي،فَحَلَفْتُ بِاللہِ: لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا،وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ،فَقَالَ نَبِيُّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: اذْہَبُوا،فَقَاسِمُوہُمْ أَنْصَافَ الْأَمْوَالِ،وَلَا تَمَسُّوا ذَرَارِيَّہُمْ, لَوْلَا أَنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ ضَلَالَةَ نَمَل, مَا رَزَيْنَاكُمْ عِقَالًا،قَالَ الزُّبَيْبُ: فَدَعَتْنِي أُمِّي،فَقَالَتْ: ہَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي،فَانْصَرَفْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ-يَعْنِي: فَأَخْبَرْتُہُ-،فَقَالَ لِي: احْبِسْہُ،فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِہِ،وَقُمْتُ مَعَہُ مَكَانَنَا،ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَائِمَيْنِ،فَقَالَ: مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ؟،فَأَرْسَلْتُہُ مِنْ يَدِي،فَقَامَ نَبِيُّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ لِلرَّجُلِ: رُدَّ عَلَی ہَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّہِ،الَّتِي أَخَذْتَ مِنْہَا!،فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللہِ! إِنَّہَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِي! قَالَ: فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ سَيْفَ الرَّجُلِ،فَأَعْطَانِيہِ،وَقَالَ لِلرَّجُلِ: اذْہَبْ فَزِدْہُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ. قَالَ: فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ.

سیدنا زبیب بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ایک لشکر بنو عنبر کی طرف روانہ کیا۔انہوں نے طائف کے مضافات میں (مقام رکبہ) رکبہ مقام پر اس قبیلے کو جا پکڑا اور انہیں نبی کریم ﷺ کی طرف لے آئے۔میں سوار ہوا اور ان سے پہلے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا۔میں نے کہا: ’’اے اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور آپ پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔آپ کا لشکر ہمارے ہاں پہنچا اور اس نے ہمیں پکڑ لیا حالانکہ ہم نے (پہلے ہی) اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنے جانوروں کے کان بھی کاٹ ڈالے تھے۔جب بنو عنبر کے لوگ پہنچ گئے تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ’’کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے کہ تم پکڑے جانے سے پہلے ان ایام میں مسلمان ہو چکے تھے؟‘‘ میں نے کہا: ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تیرے گواہ کون ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ بنو عنبر کا ایک فرد سمرہ اور ایک دوسرے آدمی کا نام لیا۔چنانچہ اس دوسرے نے شہادت دی لیکن سمرہ نے شہادت دینے سے انکار کیا۔پس نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اس نے گواہی دینے سے انکار کیا۔پس نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اس نے گواہی دینے سے انکار کیا ہے ‘ لہٰذا تجھے اپنے دوسرے گواہ کے ساتھ قسم اٹھانا ہو گی۔‘‘ میں نے کہا: ہاں (اٹھاؤں گا) تو آپ ﷺ نے مجھ سے قسم لی اور میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! ہم لوگ فلاں فلاں روز اسلام قبول کر چکے تھے اور اپنے جانوروں کے کان کاٹ چکے تھے۔(یہ اسلام اور عدم اسلام کے درمیان فرق کرنے کا ایک انداز تھا۔) تب نبی کریم ﷺ نے (اپنے مجاہدین سے) فرمایا ’’جاؤ اور ان سے نصف نصف اموال لے لو اور ان کے اولادوں کو ہاتھ مت لگاؤ۔(انہیں غلام مت بناؤ) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل (اور اس کی محنت) کو ضائع نہیں فرماتا ہے تو ہم تم سے ایک رسی بھی نہ لیتے۔“ زبیب نے کہا: پھر مجھے میری والدہ نے بلایا اور بتایا کہ اس آدمی نے مجھ سے میری توشک لی ہے۔میں نبی کریم ﷺ کے پاس گیا یعنی آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ’’اسے روکو۔‘‘ تو میں نے اس کو گریبان سے پکڑ لیا اور اپنی جگہ پر اس کے ساتھ رکا رہا۔پھر نبی کریم ﷺ نے ہمیں کھڑے دیکھا تو فرمایا ’’تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟‘‘ تو میں نے اس کو چھوڑ دیا۔چنانچہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا ’’اس کی ماں کی توشک جو تو نے اس سے لی ہے اس کو واپس کر دو۔‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ مجھ سے ضائع ہو گئی ہے۔تو نبی کریم ﷺ نے اس کی تلوار اتاری اور مجھے دے دی اور اسے فرمایا ’’جاؤ اور غلے کے چند صاع اور مزید بھی دو۔‘‘ چنانچہ اس نے مجھے کئی صاع جَو بھی دے دیے۔