Sunan Abi Dawood Hadith 3616 (سنن أبي داود)

[3616] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (2329،2346)

قتادۃ وسعید بن أبي عروبۃ مدلسان وعنعنا

انوار الصحیفہ ص 128، 129

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ خِلَاسٍ،عَنْ أَبِي رَافِعٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْہُمَا بَيِّنَةٌ،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: اسْتَہِمَا عَلَی الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِہَا.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہدو آدمی کسی مال کا تنازع لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے۔ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھا۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈال لو ‘ جس کا بھی نکل آئے ‘ تمہیں یہ پسند ہو یا نہ۔‘‘ (اس کا یہی حل ہے کہ جو قسم کھائے گا مال لے لے گا)۔