Sunan Abi Dawood Hadith 3621 (سنن أبي داود)
[3621]صحیح
صحیح بخاری (2616، 2617) صحیح مسلم (138)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی،حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ،حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ،عَنْ شَقِيقٍ عَنِ الْأَشْعَثِ قَالَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَہُودِ أَرْضٌ،فَجَحَدَنِي،فَقَدَّمْتُہُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ظ،قُلْتُ: لَا،قَالَ لِلْيَہُودِيِّ: احْلِفْ،قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِذًا،يَحْلِفُ وَيَذْہَبُ بِمَالِي! فَأَنْزَلَ اللہُ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللہِ وَأَيْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا...[آل عمران: 77], إِلَی آخِرِ الْآيَةِ.
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ‘ وہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے مابین زمین کی شراکت داری تھی ‘ جو وہ مجھے دینے سے انکاری ہو گیا۔تو میں اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گیا۔نبی کریم ﷺ نے مجھے فرمایا ’’کیا کوئی تمہار گواہ ہے؟‘‘ میں نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے یہودی سے کہا: ’’قسم اٹھاؤ۔‘‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو قسم اٹھا لے گا اور میرا مال مار لے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی ((إن الذین یشترون بعہد اللہ وأیمانہم ثمنا قلیلا)) ’’بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ‘ اللہ تعالیٰ ان سے نہ تو بات کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا ‘ نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کیلئے درد ناک عذاب ہے۔‘‘