Sunan Abi Dawood Hadith 3622 (سنن أبي داود)

[3622]إسنادہ حسن

انظر الحدیث السابق (3244) مشکوۃ المصابیح (3776)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ،حَدَّثَنَا الْفَرْيَابِيُّ،حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ،حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ, أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ،فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيہَا أَبُو ہَذَا،وَہِيَ فِي يَدِہِ؟ قَالَ: ہَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟،قَالَ: لَا،وَلَكِنْ أُحَلِّفُہُ-وَاللہِ-مَا يَعْلَمُ أَنَّہَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيہَا أَبُوہُ،فَتَہَيَّأَ الْكِنْدِيُّ-يَعْنِي: لِلْيَمِينِ,,, وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو کندہ اور حضر موت کے دو آدمی اپنی ایک زمین کا تنازع لے کے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے ‘ وہ زمین یمن میں تھی۔حضرمی نے کہا: اے اللہ کے! اس کے والد نے میری زمین غصب کر لی تھی اور وہ اب اس کے قبضے میں ہے۔آپ ﷺ نے اس (حضرمی) سے پوچھا ’’کیا تیرا کوئی گواہ ہے‘‘ اس نے کہا: نہیں۔لیکن میں اسے (کندی کو) اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا یہ نہیں جانتا کہ یہ میری زمین ہے اور اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر رکھی تھی؟ چنانچہ وہ کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا۔اور (ابن قیس رضی اللہ عنہ نے) آگے حدیث بیان کی۔