Sunan Abi Dawood Hadith 3628 (سنن أبي داود)
[3628]إسنادہ حسن
أخرجہ النسائي (4693 وسندہ صحیح) ورواہ ابن ماجہ (2427 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (2919)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ،عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ،عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،قَالَ: لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَہُ وَعُقُوبَتَہُ. قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضُہُ: يُغَلَّظُ لَہُ،وَعُقُوبَتَہُ: يُحْبَسُ لَہُ.
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا اس کی بے عزتی اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔‘‘ ابن مبارک نے کہا: اس کی بے عزتی کو حلال کر دیتا ہے۔یعنی اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے۔اور اس کو سزا دینا حلال ہے۔یعنی اسے قید کیا جا سکتا ہے۔