Sunan Abi Dawood Hadith 3629 (سنن أبي داود)

[3629] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (2428)

ھرماس بن حبیب: مجہول (دیوان الضعفاء للذھبي: 323) وأبوہ مجہول (تقریب: 1114)

انوار الصحیفہ ص 129

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ،حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ،أَخْبَرَنَا ہِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ-رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِيَةِ-،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدَّہِ،قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي،فَقَالَ لِيَ: الْزَمْہُ،ثُمَّ قَالَ لِي: يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ! مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ؟.

ہرماس بن حبیب ایک دیہاتی آدمی تھا۔وہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتا ہے کہ میں اپنے ایک مقروض کو نبی کریم ﷺ کے پاس لایا تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ’’اس کے ساتھ چمٹا رہ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ’’اے بنوتمیم کے بھائی! تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟‘‘