Sunan Abi Dawood Hadith 3636 (سنن أبي داود)

[3636] إسنادہ ضعیف

قال ابن الترکماني فی الجوھر النقي: ’’ذکر ابن حزم أنہ منقطع لأن محمد بن علي لا سماع لہ من سمرۃ‘‘ (6 / 157)

انوار الصحیفہ ص 129

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَی أَبِي عُيَيْنَةَ،قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ،عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،أَنَّہُ كَانَتْ لَہُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ،فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: وَمَعَ الرَّجُلِ أَہْلُہُ،قَالَ: فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ إِلَی نَخْلِہِ،فَيَتَأَذَّی بِہِ،وَيَشُقُّ عَلَيْہِ،فَطَلَبَ إِلَيْہِ أَنْ يَبِيعَہُ،فَأَبَی،فَطَلَبَ إِلَيْہِ أَنْ يُنَاقِلَہُ،فَأَبَی،فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَذَكَرَ ذَلِكَ لَہُ،فَطَلَبَ إِلَيْہِ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَہُ فَأَبَی،فَطَلَبَ إِلَيْہِ أَنْ يُنَاقِلَہُ،فَأَبَی،قَالَ: فَہِبْہُ لَہُ،وَلَكَ كَذَا وَكَذَا،أَمْرًا رَغَّبَہُ فِيہِ،فَأَبَی،فَقَالَ: أَنْتَ مُضَارٌّ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ: اذْہَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَہُ.

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس کے ایک انصاری کے باغ میں کھجوروں کے چند درخت تھے اور اس انصاری کے ساتھ گھر والے بھی رہائش پزیر تھے۔سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ اپنے درختوں کے لیے جاتے تو اس (انصاری) کو بڑی اذیت ہوتی اور اسے اس کا اس طرح آنا جانا برا لگتا تھا۔انصاری نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے چاہا کہ یہ درخت اس کو بیچ دے،مگر سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔پھر مطالبہ کیا کہ ان کے بدلے میں دوسرے درخت لے لے۔تو بھی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور یہ واقعہ بتایا۔نبی کریم ﷺ نے بھی اس سے کہا کہ انہیں اس کو فروخت کر دے تو اس نے انکار کیا۔پھر آپ نے کہا کہ ان کے بدلے میں دوسرے درخت لے لے تو بھی اس نے انکار کر دیا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ اس کو ہبہ کر دے تجھے اتنا اتنا اجر ملے گا۔‘‘ اس کو بہت ترغیب دی مگر اس نے انکار کر دیا۔تب آپ ﷺ فرمایا ’’تو نقصان دینے والا ہے۔‘‘ اور پھر رسول اللہ ﷺ نے انصاری سے فرمایا ’’جاؤ اور اس کی کھجوروں کو اکھیڑ ڈالو۔‘‘