Sunan Abi Dawood Hadith 3691 (سنن أبي داود)

[3691]صحیح

صحیح مسلم (1997)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ الْمَعْنِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَعْلَی يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ حَرَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ نَبِيذَ الْجَرِّ فَخَرَجْتُ فَزِعًا مِنْ قَوْلِہِ حَرَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ نَبِيذَ الْجَرِّ فَدَخَلْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ قَالَ وَمَا ذَاكَ قُلْتُ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ نَبِيذَ الْجَرِّ قَالَ صَدَقَ حَرَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ نَبِيذَ الْجَرِّ قُلْتُ وَمَا الْجَرُّ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ

جناب سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھڑے کی نبیذ حرام فرمائی ہے۔سعید کہتے ہیں کہ میں ان کی بات سے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھڑے کی نبیذ حرام فرمائی ہے ‘ گھبرا کر نکل آیا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا۔میں نے پوچھا کیا آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات سنی ہے؟ انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھڑے کی نبیذ حرام فرمائی ہے۔انہوں نے کہا کہ سچ کہا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے گھڑے کی نبیذ حرام کی ہے۔میں نے پوچھا کہ گھڑے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہر وہ برتن جو مٹی سے بنا ہو۔