Sunan Abi Dawood Hadith 3692 (سنن أبي داود)

[3692]صحیح

صحیح بخاری (523) صحیح مسلم (17 بعد ح1995)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ،قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح،وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ،عَنْ أَبِي جَمْرَةَ،قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ وَقَالَ مُسَدَّدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،وَہَذَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّا ہَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ،قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ،وَلَيْسَ نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَہْرٍ حَرَامٍ،فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُ بِہِ،وَنَدْعُو إِلَيْہِ مَنْ وَرَاءَنَا؟ قَالَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ،وَأَنْہَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانُ بِاللہِ،وَشَہَادَةُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،وَعَقَدَ بِيَدِہِ وَاحِدَةً-،وَقَالَ مُسَدَّدٌ الْإِيمَانُ بِاللہِ-،ثُمَّ فَسَّرَہَا لَہُمْ: شَہَادَةُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ،وَإِقَامُ الصَّلَاةِ،وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ،وَأَنْ تُؤَدُّوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ،وَأَنْہَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ،وَالْحَنْتَمِ،وَالْمُزَفَّتِ،وَالْمُقَيَّرِ. وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ النَّقِيرُ مَكَانَ الْمُقَيَّرِ وَقَالَ مُسَدَّدٌ وَالنَّقِيرُ وَالْمُقَيَّرُ لَمْ يَذْكُرِ الْمُزَفَّتَ. قَالَ أَبو دَاود: أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! ہم قبیلہ ربیعہ کے لوگ ہیں۔ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں۔ہم آپ کے پاس صرف حرمت کے مہینوں میں آ سکتے ہیں۔لہٰذا آپ ہمیں ایسی بات فرما دیجئیے جسے ہم پکڑ لیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں۔اﷲ پر ایمان اور ((لا إلہ إلا اللہ)) کی شہادت اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ایک عدد کی گرہ بنائی (ایک کا اشارہ کیا)۔مسدد نے صرف ایمان باﷲ کا ذکر کیا۔پھر آپ نے انہیں اس کی وضاحت فرمائی کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اﷲ کے رسول ہیں ‘ نماز قائم کرنا ‘ زکوٰۃ دینا اور جو غنیمت تمہیں حاصل ہو اس میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا۔اور میں تمہیں کدو کے برتن (تونبے) ‘ سبز برتن جس پر کسی طرح کا روغن ملا گیا ہو ‘ روغن زفت لگے برتن اور روغن قیر لگے برتن سے منع کرتا ہوں۔ابن عبید نے ((مقیر)) کی بجائے ((نقیر)) (لکڑی کو کھوکھلا کر کے بنایا ہوا برتن) کا لفظ کہا۔جبکہ مسدد نے ((نقیر)) اور ((مقیر)) کہا ‘ انہوں نے مزفت کا ذکر نہیں کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ سند میں مذکور ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔