Sunan Abi Dawood Hadith 3709 (سنن أبي داود)

[3709] إسنادہ ضعیف

قتادۃ مدلس وعنعن

وحدیث النسائي (5573) یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 132

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَعِكْرِمَةَ أَنَّہُمَا كَانَا يَكْرَہَانِ الْبُسْرَ وَحْدَہُ وَيَأْخُذَانِ ذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَخْشَی أَنْ يَكُونَ الْمُزَّاءُ الَّذِي نُہِيَتْ عَنْہُ عَبْدُ القَيْسِ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ مَا الْمُزَّاءُ قَالَ النَّبِيذُ فِي الْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ

جناب جابر بن زید اور عکرمہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ دونوں بسر (نیم پختہ کھجور) کی نبیذ کو مکروہ سمجھتے تھے اور وہ یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے۔اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ وہی ((مزاء)) نہ ہو جس سے عبدالقیس کے وفد کو منع کیا گیا تھا۔(ہشام نے کہا) میں نے قتادہ سے پوچھا ((مزاء)) سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سبز روغن ملے ہوئے گھڑے اور روغن زفت لگے برتن میں تیار کردہ نبیذ کو ((مزاء)) کہتے ہیں۔