Sunan Abi Dawood Hadith 3710 (سنن أبي داود)
[3710]إسنادہ صحیح
أخرجہ النسائي (5739 وسندہ حسن)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ضَمُرَةُ عَنْ السَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيہِ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللہِ قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ فَإِلَی مَنْ نَحْنُ قَالَ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِہَا قَالَ زَبِّبُوہَا قُلْنَا مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ قَالَ انْبِذُوہُ عَلَی غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوہُ عَلَی عَشَائِكُمْ وَانْبِذُوہُ عَلَی عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوہُ عَلَی غَدَائِكُمْ وَانْبِذُوہُ فِي الشِّنَانِ وَلَا تَنْبِذُوہُ فِي الْقُلَلِ فَإِنَّہُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِہِ صَارَ خَلًّا
جناب عبداللہ بن الدیلمی (عبداللہ بن فیروز الدیلمی) والد سے روایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں ‘ کہاں سے آئے ہیں اور کس کے پاس آئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی طرف آئے ہو اور اس کے رسول کی طرف۔’’ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں انگور ہوتے ہیں ہم ان کا کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’انہیں خشک کر کے زبیب یعنی کشمش بنا لیا کرو۔‘‘ ہم نے عرض کیا ہم (زبیب) کشمش کا کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’صبح کے وقت بھگو دیا کرو اور رات کو پی لیا کرو۔اور رات کو بھگو رکھا کرو اور صبح کو پی لیا کرو اور نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو ‘ مٹکوں میں نہیں ‘ تحقیق اسے نچوڑنے میں جب تاخیر ہو جاتی ہے تو یہ سرکہ بن جاتی ہے۔‘‘