Sunan Abi Dawood Hadith 3714 (سنن أبي داود)

[3714]صحیح

صحیح بخاری (5267) صحیح مسلم (1474)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ،قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ،عَنْ عَطَاءٍ أَنَّہُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ،قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ تُخْبِرُ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ،فَيَشْرَبُ عِنْدَہَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْہَا النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاہُنَّ فَقَالَتْ لَہُ ذَلِكَ فَقَالَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَہُ فَنَزَلَتْ: لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللہُ لَكَ تَبْتَغِي-إِلَی-إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللہِ[التحريم: 1-4], لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِي اللہُ عَنْہُمَا: وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِہِ حَدِيثًا[التحريم: 3], لِقَوْلِہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ (معمول کے مطابق ازواج مطہرات کے ہاں چکر لگاتے تو) سیدہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہ کے ہاں رکتے اور ان کے ہاں سے شہد نوش فرمایا کرتے۔تو میں نے اور حفصہ نے آپس میں طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم ﷺ تشریف لائیں تو وہ کہے کہ میں آپ سے مغافیر (جنڈی کے رس) کی بو محسوس کرتی ہوں۔چنانچہ آپ ﷺ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے یہ بات کہہ دی۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’(نہیں) میں نے تو زینب کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ ہرگز نہیں پیوں گا۔‘‘ چنانچہ سورۃ التحریم کی یہ آیات نازل ہو گئیں۔((لم تحرم ما أحل اللہ *** إن تتوبا إلی اللہ)) ’’(اس کا) اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف ہے اور ((وإذ أسر النبی إلی بعض أزواجہ حدیثا)) ’’اور جب نبی ﷺ نے اپنی ایک بیوی سے راز دارانہ بات کی۔‘‘ تو یہ راز وہی تھا جو آپ نے کہا تھا کہ ’’بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔‘‘