Sunan Abi Dawood Hadith 3715 (سنن أبي داود)

[3715]صحیح

صحیح بخاری (5599) صحیح مسلم (1474)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،عَنْ ہِشَامٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ فَذَكَرَ بَعْضَ ہَذَا الْخَبَرِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْہِ أَنْ تُوجَدَ مِنْہُ الرِّيحُ وَفِي ہَذَا الْحَدِيثِ قَالَتْ سَوْدَةُ بَلْ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا سَقَتْنِي حَفْصَةُ فَقُلْتُ: جَرَسَتْ نَحْلُہُ الْعُرْفُطَ نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ. قَالَ أَبو دَاود: الْمَغَافِيرُ مُقْلَةٌ وَہِيَ صَمْغَةٌ وَجَرَسَتْ رَعَتْ وَالْعُرْفُطُ نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو میٹھا اور شہد بہت پسند تھا اور مذکورہ بالا قصے کا کچھ حصہ بیان کیا (اور کہا کہ) رسول اللہ ﷺ کو یہ بات بہت گراں محسوس ہوتی تھی کہ آپ ﷺ سے کوئی ناگوار بو آئے۔اس حدیث میں ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ آپ ﷺ نے مغافیر (جنڈی کا رس) پیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’(نہیں) بلکہ میں نے تو شہد پیا ہے جو مجھے حفصہ نے پلایا ہے۔‘‘ تو میں نے کہا: (شاید) شہد کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا۔(عرفط) ایک بوٹی کا نام ہے جس پر شہد کی مکھی بیٹھتی ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ((مغافیر)) ایک طرح کی گوند سی ہوتی ہے۔اور ((جرست)) کے معنی ہیں ’’اس نے چوسا ہو گا اور ((عرفط)) ایک بوٹی ہوتی ہے جس پر شہد کی مکھی بیٹھتی ہے۔