Sunan Abi Dawood Hadith 3723 (سنن أبي داود)

[3723]صحیح

صحیح بخاری (5632) صحیح مسلم (2067)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَی فَأَتَاہُ دِہْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاہُ بِہِ وَقَالَ إِنِّي لَمْ أَرْمِہِ بِہِ إِلَّا أَنِّي قَدْ نَہَيْتُہُ فَلَمْ يَنْتَہِ وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَہَی عَنْ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَعَنْ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّہَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ ہِيَ لَہُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ

جناب ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے انہوں نے پانی طلب کیا تو ایک دہقان چاندی کے برتن میں پانی لے آیا۔تو انہوں نے اسے پھینک مارا اور پھر کہا: میں نے اسے بلاوجہ نہیں پھینکا بلکہ میں اس کو اس سے پہلے منع کر چکا ہوں ‘ مگر یہ باز نہیں آیا۔اور تحقیق رسول اللہ ﷺ نے حریر و دیباج سے منع فرمایا ہے (حرید عام ریشم اور دیباج باریک ریشم کو کہتے ہیں) اور سونے چاندی کے برتنوں میں پینے سے روکا ہے اور فرمایا ہے ’’یہ چیزیں ان کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں۔‘‘