Sunan Abi Dawood Hadith 3734 (سنن أبي داود)
[3734]صحیح
صحیح بخاری (5605) صحیح مسلم (2011)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَاسْتَسْقَی فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا قَالَ بَلَی قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيہِ نَبِيذٌ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ أَلَا خَمَّرْتَہُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْہِ عُودًا قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ الْأَصْمَعِيُّ تَعْرِضُہُ عَلَيْہِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (ایک بار) ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ نے پانی طلب فرمایا،ایک شخص نے کہا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پیش کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیوں نہیں۔‘‘ چنانچہ وہ بھاگتا بھاگتا گیا اور ایک پیالہ لے آیا،اس میں نبیذ تھی،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں؟ اس پر کوئی لکڑی ہی رکھ لیتا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (امام لغت اصمعی) اصمعی نے اس لفظ کو ((تعرضہ علیہ)) پڑھا ہے۔(راء کے پیش کے ساتھ جبکہ دوسرے زیر سے پڑھتے ہیں)۔