Sunan Abi Dawood Hadith 3755 (سنن أبي داود)
[3755]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ماجہ (3360 وسندہ حسن)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْہَانَ،عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَہُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَدَعُوہُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَہُ عَلَی عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَی الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ بِہِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ الْحَقْہُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَہُ فَتَبِعْتُہُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ مَا رَدَّكَ فَقَالَ: إِنَّہُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا.
سیدنا سفینہ ابوعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا تیار کیا (اور ان کے گھر بھیج دیا) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر ہم رسول اللہ ﷺ کو بلا لیں اور وہ بھی ہمارے ساتھ تناول فرما لیں (تو بہت خوب ہے) چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کو دعوت دی اور آپ ﷺ تشریف لے آئے۔آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ دروازے کی چوکھٹ پر رکھا اور ایک منقش پردہ دیکھا جو گھر کی ایک جانب میں لگایا گیا تھا ‘ تو آپ ﷺ واپس ہو لیے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: نبی کریم ﷺ سے ملیں اور معلوم کریں کہ کس چیز نے آپ ﷺ کو واپس لوٹایا ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پیچھے گیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کس وجہ سے واپس آ گئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے لائق نہیں یا کہا کہ نبی کو لائق نہیں کہ نقش و نگار والے گھر میں داخل ہو۔‘‘