Sunan Abi Dawood Hadith 3766 (سنن أبي داود)
[3766]صحیح
صحیح مسلم (2017)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ طَعَامًا لَمْ يَضَعْ أَحَدُنَا يَدَہُ حَتَّی يَبْدَأَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَہُ طَعَامًا فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَذَہَبَ لِيَضَعَ يَدَہُ فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِيَدِہِ ثُمَّ جَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّمَا تُدْفَعُ فَذَہَبَتْ لِتَضَعَ يَدَہَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِيَدِہَا وَقَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ الَّذِي لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ وَإِنَّہُ جَاءَ بِہَذَا الْأَعْرَابِيِّ يَسْتَحِلُّ بِہِ فَأَخَذْتُ بِيَدِہِ وَجَاءَ بِہَذِہِ الْجَارِيَةِ يَسْتَحِلُّ بِہَا فَأَخَذْتُ بِيَدِہَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ إِنَّ يَدَہُ لَفِي يَدِي مَعَ أَيْدِيہِمَا
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانے میں شریک ہوتے تو ہم میں سے کوئی کھانے میں ہاتھ نہ ڈالتا جب تک کہ رسول اللہ ﷺ شروع نہ کر لیتے۔چنانچہ ایک مرتبہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ کھانے میں شریک تھے کہ ایک بدوی آیا گویا اسے دھکیلا جا رہا تھا ‘ پس وہ آگے بڑھا کہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔پھر ایک چھوٹی بچی آئی گویا اسے (بھی) دھکیلا جا رہا تھا ‘ اس نے بھی آگے بڑھ کر اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور فرمایا ’’جس کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو شیطان اسے اپنے لیے حلال سمجھ لیتا ہے۔وہ اس بدوی کو لایا تاکہ اس کے ذریعے سے کھانا حاصل کر سکے ‘ مگر میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس بچی کو لایا تاکہ اس کے ذریعے سے کھانا لے سکے ‘ تو میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ اس کا ہاتھ ‘ ان (دونوں) کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔‘‘