Sunan Abi Dawood Hadith 3773 (سنن أبي داود)
[3773]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ماجہ (3263 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (4251)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بُسْرٍ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ ﷺ قَصْعَةٌ يُقَالُ لَہَا الْغَرَّاءُ يَحْمِلُہَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَی أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ يَعْنِي وَقَدْ ثُرِدَ فِيہَا فَالْتَفُّوا عَلَيْہَا فَلَمَّا كَثَرُوا جَثَا رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ مَا ہَذِہِ الْجِلْسَةُ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنَّ اللہَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ كُلُوا مِنْ حَوَالَيْہَا وَدَعُوا ذِرْوَتَہَا يُبَارَكْ فِيہَا
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کا ایک بہت بڑا طشت تھا ‘ جسے ((غراء)) کہا جاتا تھا ‘ اسے چار آدمی اٹھاتے تھے۔جب چاشت کا وقت ہوا اور انہوں نے ضحیٰ کی نماز پڑھ لی تو اس طشت کو لایا گیا جبکہ اس میں ثرید بنایا گیا تھا (یعنی شوربے میں روٹی بھگوئی گئی تھی)۔سب لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے۔جب لوگوں کی کثرت ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے گھٹنے ٹیک لیے۔ایک بدوی نے کہا: بیٹھنے کا یہ کیسا انداز ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اللہ نے مجھے نیک خو بندہ بنایا ہے ‘ نہ کہ متکبر سرکش‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اس کی اطراف سے کھاؤ اور چوٹی کو چھوڑ دو ‘ اس میں برکت ہو گی۔‘‘