Sunan Abi Dawood Hadith 3800 (سنن أبي داود)
[3800]إسنادہ صحیح
مشکوۃ المصابیح (4146)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صَبِيحٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ الْمَكِّيَّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ أَہْلُ الْجَاہِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَبَعَثَ اللہُ تَعَالَی نَبِيَّہُ ﷺ وَأَنْزَلَ كِتَابَہُ وَأَحَلَّ حَلَالَہُ وَحَرَّمَ حَرَامَہُ فَمَا أَحَلَّ فَہُوَ حَلَالٌ وَمَا حَرَّمَ فَہُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْہُ فَہُوَ عَفْوٌ وَتَلَا قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اسلام سے پہلے لوگ کئی چیزوں کو کھاتے اور کئی کو ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے۔تو اﷲ تعالیٰ نے اپنا نبی مبعوث فرمایا ‘ اپنی کتاب نازل کی ‘ حلال کو حلال اور حرام کو حرام ٹھہرایا۔تو جس کو اس نے حلال کیا وہ حلال ہے اور جس کو اس نے حرام کیا وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی وہ معاف ہے اور سورۃ الانعام کی آیت تلاوت فرمائی ((قل لا أجد فی ما أوحی إلی محرما)) ’’کہہ دیجئیے کہ بذریعہ وحی جو احکام میرے پاس آئے ہیں ان میں میں کسی کھانے والے کے لیے کوئی چیز جسے وہ کھانا چاہے حرام نہیں پاتا الا یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ‘ بیشک وہ ناپاک ہے یا وہ فسق ہے کہ (ذبح کرتے وقت) اس پر اﷲ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو ‘ پھر جو شخص مجبور ہو جائے ‘ (بشرطیکہ) وہ سرکشی کرنے والا اور حد سے گزرنے والا نہ ہو ‘ تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘