Sunan Abi Dawood Hadith 3809 (سنن أبي داود)

[3809] إسنادہ ضعیف

ناس من مزینۃ: مجاہیل،کلھم

انوار الصحیفہ ص 135

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ،حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ،عَنْ إِسْرَائِيلَ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ،قَالَ: أَصَابَتْنَا سَنَةٌ،فَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي شَيْءٌ أُطْعِمُ أَہْلِي،إِلَّا شَيْءٌ مِنْ حُمُرٍ،وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَہْلِيَّةِ،فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَصَابَتْنَا السَّنَةُ،وَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي مَا أُطْعِمُ أَہْلِي،إِلَّا سِمَانُ الْحُمُرِ،وَإِنَّكَ حَرَّمْتَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَہْلِيَّةِ؟ فَقَالَ: أَطْعِمْ أَہْلَكَ مِنْ سَمِينِ حُمُرِكَ, فَإِنَّمَا حَرَّمْتُہَا مِنْ أَجْلِ جَوَّالِ الْقَرْيَةِ.-يَعْنِي: الْجَلَّالَةَ. قَالَ أَبو دَاود: عَبْدُ الرَّحْمَنِ ہَذَا ہُوَ ابْنُ مَعْقِلٍ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَی شُعْبَةُ ہَذَا الْحَدِيثَ،عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ،عَنْ نَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَنَّ سَيِّدَ مُزَيْنَةَ أَبْجَرَ أَوِ ابْنَ أَبْجَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ.

سیدنا غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم قحط سے دوچار ہو گئے۔میرے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جو میں اپنے گھر والوں کو کھلا سکتا۔صرف چند گدھے ہی تھے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام فرما دیا تھا۔چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم قحط میں مبتلا ہیں اور میرے پاس کوئی مال نہیں جو میں اپنے گھر والوں کو کھلا سکوں سوائے موٹے موٹے گدھوں کے اور آپ نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنے گھر والوں کو اپنے موٹے گدھوں میں سے کھلا دو ‘ میں نے انہیں اس لیے حرام کیا ہے کہ یہ بستی کی گندگی کھاتے ہیں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سند میں مذکور عبدالرحمٰن یہ ابن معقل ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو شعبہ نے عبید ابوالحسن سے روایت کیا ہے ‘ انہوں نے عبدالرحمٰن بن معقل سے ‘ انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے کچھ لوگوں سے ‘ (انہوں نے بیان کیا) کہ قبیلہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا تھا۔