Sunan Abi Dawood Hadith 3840 (سنن أبي داود)

[3840]صحیح

صحیح بخاری (2483) صحیح مسلم (1935)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ نَتَلَقَّی عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ نَجِدْ لَہُ غَيْرَہُ فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً كُنَّا نَمُصُّہَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْہَا مِنْ الْمَاءِ فَتَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَی اللَّيْلِ وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّہُ بِالْمَاءِ فَنَأْكُلُہُ وَانْطَلَقْنَا عَلَی سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا كَہَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ فَأَتَيْنَاہُ فَإِذَا ہُوَ دَابَّةٌ تُدْعَی الْعَنْبَرَ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَيْتَةٌ وَلَا تَحِلُّ لَنَا ثُمَّ قَالَ لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَفِي سَبِيلِ اللہِ وَقَدْ اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْہِ فَكُلُوا فَأَقَمْنَا عَلَيْہِ شَہْرًا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّی سَمِنَّا فَلَمَّا قَدِمْنَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَہُ فَقَالَ ہُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَہُ اللہُ لَكُمْ فَہَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِہِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا مِنْہُ فَأَرْسَلْنَا مِنْہُ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَكَلَ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں (ایک مہم میں) روانہ فرمایا اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر فرمایا،ہم نے قریش کا ایک قافلہ پکڑنا تھا۔آپ نے ہمیں زاد راہ کے طور پر ایک تھیلا کھجوروں کا عنایت فرمایا،ہمیں اس کے علاوہ اور کچھ نہ ملا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک ایک دانہ کھجور دیا کرتے تھے ہم اسے چوستے رہتے جیسے کہ بچہ چوستا ہے،پھر اس پر پانی پی لیتے تو وہ ہمیں ایک دن رات تک کے لیے کفایت کرتا تھا۔اور ہم اپنی لاٹھیوں سے درختوں سے پتے جھاڑتے،انہیں پانی میں بھگو لیتے،پھر انہیں کھا جاتے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ ہم ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چلے تو ہمیں ایک بہت بڑے ٹیلے جیسی چیز نظر آئی۔ہم اس کے پاس پہنچے تو وہ ایک جاندار چیز تھی جسے عنبر کہا جاتا ہے۔سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے جو ہمارے لیے حلال نہیں،پھر کہنے لگے نہیں،بلکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہیں اور اس کے محتاج بھی ہیں لہٰذا تم اسے کھا سکتے ہو۔چنانچہ ہم وہاں اس کے پاس ایک مہینہ تک رہے،ہماری تعداد تین سو تھی (ہم اس میں سے کھاتے رہے) حتیٰ کہ ہم فربہ ہو گئے۔پھر جب ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے نکالا تھا،کیا اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ؟‘‘ چنانچہ ہم نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا جسے آپ ﷺ نے تناول فرمایا۔