Sunan Abi Dawood Hadith 3877 (سنن أبي داود)
[3877]صحیح
صحیح بخاری (5713) صحیح مسلم (2214)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عُبَيدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْہِ مِنْ الْعُذْرَةِ فَقَالَ عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِہَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِہَذَا الْعُودِ الْہِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيہِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْہَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنْ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ قَالَ أَبُو دَاوُد يَعْنِي بِالْعُودِ الْقُسْطَ
سیدہ ام قیس بنت مخصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔(چونکہ اس کے حلق میں تکلیف تھی تو) میں نے اس کے لٹکے ہوئے گلے انگلی سے اوپر کیے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم اپنے بچوں کے گلے لٹکنے کا علاج انگلی سے کیوں کرتی ہو؟ عود ہندی اختیار کر لو ‘ اس میں سات بیماریوں کی شفاء ہے۔ان میں سے ایک ’’ذات الجنب‘‘ (پہلو کا درد بھی) ہے (جس میں یہ مفید ہے) حلق کی تکلیف میں اسے ناک میں ٹپکایا جاتا ہے اور پہلو کے درد میں پانی کے ساتھ کھلایا جاتا ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عود سے مراد قسط ہے۔