Sunan Abi Dawood Hadith 3890 (سنن أبي داود)

[3890]صحیح

صحیح بخاری (5742)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُہَيْبٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ يَعْنِي لِثَابِتٍ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللہِ قَالَ بَلَی قَالَ فَقَالَ اللہُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْہِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِہِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جناب ثابت بنانی سے کہا کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا (سکھایا ہوا) دم نہ کروں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔تو انہوں نے کہا: ((اللہم رب الناس،مذہب الباس،اشف أنت الشافی،لا شافی إلا أنت اشفہ شفاء لا یغادر سقما)) ’’اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! دکھوں کے دور کرنے والے! شفاء عنایت فرما ‘ تو ہی شافی ہے،‘ تیرے سوا کوئی شفاء نہیں دے سکتا ‘ اسے شفاء دے ایسی شفاء جو کوئی بیماری نہ رہنے دے۔‘‘