Sunan Abi Dawood Hadith 3893 (سنن أبي داود)
[3893] إسنادہ ضعیف
ترمذی (3528)
ابن إسحاق عنعن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يُعَلِّمُہُمْ مِنْ الْفَزَعِ كَلِمَاتٍ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِہِ وَشَرِّ عِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ وَكَانَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ يُعَلِّمُہُنَّ مَنْ عَقَلَ مِنْ بَنِيہِ وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْ كَتَبَہُ فَأَعْلَقَہُ عَلَيْہِ
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ڈر یا گھبراہٹ کے موقع پر انہیں یہ کلمات سکھایا کرتے تھے ((أعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ وشر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وأن یحضرون)) ’’میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں ‘ اس کی ناراضی سے ‘ اس کے بندوں کی شرارتوں سے ‘ شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئیں۔‘‘ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے سمجھدار بچوں کو یہ کلمات سکھا دیا کرتے تھے اور جو ناسمجھ ہوتے ‘ انہیں لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیتے۔