Sunan Abi Dawood Hadith 3894 (سنن أبي داود)
[3894]صحیح
صحیح بخاری (4206)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاہِيمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ فَقُلْتُ مَا ہَذِہِ قَالَ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ النَّاسُ أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللہِ ﷺ فَنَفَثَ فِيَّ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُہَا حَتَّی السَّاعَةِ
جناب یزید بن ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سلمہ (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کی پنڈلی پر تلوار لگنے کا نشان دیکھا۔میں نے پوچھا کہ یہ کیسا نشان ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ مجھے خیبر کے روز لگی تھی اور لوگ کہنے لگے کہ سلمہ تو گیا! تو مجھے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا۔آپ ﷺ نے مجھ پر تین بار پھونک ماری (جس میں ہلکا سا لعاب دہن بھی تھا) تو اس کے بعد سے اب تک مجھے اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔