Sunan Abi Dawood Hadith 3903 (سنن أبي داود)

[3903]صحیح

أخرجہ ابن ماجہ (3324 وسندہ صحیح)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ أَرَادَتْ أُمِّي أَنْ تُسَمِّنَنِي لِدُخُولِي عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَلَمْ أَقْبَلْ عَلَيْہَا بِشَيْءٍ مِمَّا تُرِيدُ حَتَّی أَطْعَمَتْنِي الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ عَلَيْہِ كَأَحْسَنِ السَّمْنِ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں قدرے موٹی ہو جاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے گھر بھیجا جا سکے۔مگر مجھے ان کی حسب منشا کسی چیز سے فائدہ نہ ہوا حتیٰ کہ انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو اس سے میں خوب موٹی تازی ہو گئی۔