Sunan Abi Dawood Hadith 3920 (سنن أبي داود)
[3920] إسنادہ ضعیف
قتادۃ عنعن
ولبعض الحدیث شاہد عند الضیاء فی المختارۃ بلفظ ’’کان یتفأل ولا یتطیر ویعجبہ الإسم الحسن‘‘ (144/12 ح169) وھو حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنْ اسْمِہِ فَإِذَا أَعْجَبَہُ اسْمُہُ فَرِحَ بِہِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْہِہِ وَإِنْ كَرِہَ اسْمَہُ رُئِيَ كَرَاہِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْہِہِ وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنْ اسْمِہَا فَإِنْ أَعْجَبَہُ اسْمُہَا فَرِحَ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْہِہِ وَإِنْ كَرِہَ اسْمَہَا رُئِيَ كَرَاہِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْہِہِ
جناب عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کبھی کسی شے سے بدشگونی نہیں لیا کرتے تھے۔آپ ﷺ جب کسی شخص کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام دریافت فرماتے۔سو اگر اس کا نام پسند آ جاتا تو خوش ہوتے اور خوشی کا اثر چہرے پر ظاہر ہوتا اور اگر نام پسند نہ آتا تو اس کا اثر بھی آپ ﷺ کے چہرے پر ظاہر ہوتا۔اور آپ ﷺ جب کسی (نئی) بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے ‘ اگر اس کا نام پسند آتا تو خوش ہوتے اور خوشی کا اثر چہرے پر دکھائی دیتا اور اگر نام پسند نہ آتا تو اس کی کراہت کا اثر (بھی) آپ ﷺ کے چہرے پر ظاہر ہوتا۔