Sunan Abi Dawood Hadith 3922 (سنن أبي داود)

[3922]صحیح

صحیح بخاری (5093) صحیح مسلم (2225)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حَمْزَةَ وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ قَالَ أَبُو دَاوُد قُرِئَ عَلَی الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاہِدٌ أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ قَالَ سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ وَالدَّارِ قَالَ كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَہَا نَاسٌ فَہَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَہَا آخَرُونَ فَہَلَكُوا فَہَذَا تَفْسِيرُہُ فِيمَا نَرَی وَاللہُ أَعْلَمُ قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنْ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرماتا ’’بدشگونی گھر ‘ بیوی اور گھوڑے میں ہوتی ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جناب حارث بن مسکین کے سامنے حدیث پڑھی گئی جب کہ میں حاضر تھا،انہیں کہا گیا کہ آپ کو ابن قاسم نے خبر دی،جب کہ امام مالک رحمہ اللہ سے گھوڑے اور گھر کی بدشگونی کے بارے میں پوچھا گیا؟ تو انہوں نے فرمایا: کتنے ہی گھروں میں لوگوں نے رہائش اختیار کی تو وہ ہلاک ہو گئے،پھر دوسرے قیام پذیر ہوئے تو وہ بھی ہلاک ہو گئے۔یہی اس کی توضیح ہے جیسے کہ ہم سمجھتے ہیں۔اور اللہ خوب جانتا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گھر کی چٹائی اس عورت سے کہیں بہتر ہے جو بانجھ ہو۔