Sunan Abi Dawood Hadith 3938 (سنن أبي داود)
[3938]صحیح
صحیح بخاری (2527) صحیح مسلم (1503)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ،أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ح،وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللہِ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَہَذَا لَفْظُہُ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ،عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَہِيكٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَہُ،أَوْ شَقِيصًا لَہُ فِي مَمْلُوكٍ, فَخَلَاصُہُ عَلَيْہِ فِي مَالِہِ-إِنْ كَانَ لَہُ مَالٌ-, فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَہُ مَالٌ, قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ،ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِہِ فِي قِيمَتِہِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْہِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِہِمَا جَمِيعًا فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْہِ وَہَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَی وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاہُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ،عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ لَمْ يَذْكُرْ السِّعَايَةَ وَرَوَاہُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَمُوسَی بْنُ خَلَفٍ جَمِيعًا،عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَمَعْنَاہُ وَذَكَرَا فِيہِ السِّعَايَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’جس کسی نے (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا ہو تو اس غلام کی آزادی اس (آزاد کرنے والے) کے مال سے ہو گی بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو ‘ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام کی متوسط قیمت لگائی جائے ‘ پھر اس سے اپنے مالک کے لیے قیمت کے مطابق محنت کرائی جائے جو زیادہ سخت اور بھاری نہ ہو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں (نصر بن علی اور علی بن عبداللہ) دونوں کی روایت میں ہے ((فاستسعی غیر مشقوق علیہ)) جب کہ مذکورہ بالا الفاظ علی بن عبداللہ کے ہیں (کہ ان میں ((قوم العبد قیمۃ عدل)) کا بھی بیان ہے)۔