Sunan Abi Dawood Hadith 3953 (سنن أبي داود)

[3953] إسنادہ ضعیف

ابن إسحاق عنعن

وأم خطاب: لا تعرف (تقریب: 8727)

انوار الصحیفہ ص 141

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ خَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ مَوْلَی الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّہِ عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ مَعْقِلٍ امْرَأَةٍ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلَانَ قَالَتْ قَدِمَ بِي عَمِّي فِي الْجَاہِلِيَّةِ فَبَاعَنِي مِنْ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرٍو فَوَلَدْتُ لَہُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ ثُمَّ ہَلَكَ فَقَالَتْ امْرَأَتُہُ الْآنَ وَاللہِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِہِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي امْرَأَةٌ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلَانَ قَدِمَ بِي عَمِّي الْمَدِينَةَ فِي الْجَاہِلِيَّةِ فَبَاعَنِي مِنْ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرٍو فَوَلَدْتُ لَہُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ فَقَالَتْ امْرَأَتُہُ الْآنَ وَاللہِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ وَلِيُّ الْحُبَابِ قِيلَ أَخُوہُ أَبُو الْيُسْرِ بْنُ عَمْرٍو فَبَعَثَ إِلَيْہِ فَقَالَ أَعْتِقُوہَا فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدِمَ عَلَيَّ فَأْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ مِنْہَا قَالَتْ فَأَعْتَقُونِي وَقَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ رَقِيقٌ فَعَوَّضَہُمْ مِنِّي غُلَامًا

سلامہ بنت معقل بیان کرتی ہیں اور یہ بنو خارجہ قیس عیلان کی خاتون تھیں،کہتی ہیں کہ ایام جاہلیت میں میرا چچا مجھے لے کر آیا اور حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا جو ابویسر بن عمرو کا بھائی تھا ‘ تو میں نے اس کے بیٹے عبدالرحمٰن بن حباب کو جنم دیا۔پھر وہ (حباب) فوت ہو گیا تو اس کی بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! اب تجھے حباب کے قرضے میں بیچ دیا جائے گا ‘ تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں بنو خارجہ قیس عیلان کی خاتون ہوں۔ایام جاہلیت میں میرا چچا مجھے مدینے لایا تھا اور حباب بن عمرو ‘ جو کہ ابویسر بن عمرو کا بھائی ہے ‘ کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا۔میں نے اس کے بیٹے عبدالرحمٰن بن حباب کو جنم دیا ہے۔اور اب اس کی بیوی کہہ رہی ہے اللہ کی قسم! تجھے اس (حباب) کے قرضے کی ادائیگی میں فروخت کر دیا جائے گا ‘ تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا ’’حباب کا ولی اور وارث کون ہے؟‘‘ بتایا گیا کہ اس کا بھائی ابویسر بن عمرو ہے۔تو آپ ﷺ نے اس کو بلا بھیجا اور فرمایا ’’اس آزاد کر دو اور جب تمہیں معلوم ہو کہ میرے پاس غلام آئے ہیں تو میرے پاس آنا میں تمہیں اس کا عوض دے دوں گا۔‘‘ سلامہ کہتی ہیں کہ پھر انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس غلام آئے تو آپ ﷺ نے ان کو میرے عوض ایک غلام عنایت فرما دیا۔