Sunan Abi Dawood Hadith 3971 (سنن أبي داود)
[3971] إسنادہ ضعیف
ترمذی (3009)
خصیف: ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ فُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَعَلَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَخَذَہَا فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ أَبُو دَاوُد يَغُلَّ مَفْتُوحَةُ الْيَاءِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ ((وما کان لنبی أن یغل ***)) اس سلسلے میں نازل ہوئی تھی کہ بدر کے دن ایک سرخ رنگ کا کپڑا گم ہو گیا تھا تو کئی لوگوں نے کہہ دیا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لیا ہو۔تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ((وما کان لنبی أن یغل ***)) یہ ناممکن ہے کہ کوئی نبی خیانت کرے ‘ اور جو کوئی خیانت کرے گا تو جو اس نے خیانت کی ہو گی اس کے ساتھ قیامت کے دن حاضر ہو گا ‘ پھر ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لفظ ((یغل)) ’’یا‘‘ پر زبر کے ساتھ ہے۔