Sunan Abi Dawood Hadith 3974 (سنن أبي داود)
[3974]صحیح
صحیح بخاری (4591) صحیح مسلم (3025)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَحِقَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا فِي غُنَيْمَةٍ لَہُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَتَلُوہُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَيْكُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی چند بکریاں لیے جا رہا تھا کہ مسلمان اس پر جا پہنچے تو اس نے کہا: ’’السلام علیکم۔‘‘ مگر مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا اور ان چند بکریوں پر قبضہ کر لیا۔تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ((ولا تقولوا لمن ألقی إلیکم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحیاۃ الدنیا)) ’’اور جو شخص تمہیں سلام کہے اس کے بارے میں یہ مت کہو کہ تو صاحب ایمان نہیں ہے۔تم دنیا کی زندگانی کے مال کے متلاشی ہو؟‘‘ اس آیت میں انہی چند بکریوں کی طرف اشارہ ہے۔