Sunan Abi Dawood Hadith 4037 (سنن أبي داود)

[4037]صحیح

أخرجہ الببیہقي (8/ 179 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَتْ الْحَرُورِيَّةُ أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللہُ عَنْہُ فَقَالَ ائْتِ ہَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا جَمِيلًا جَہِيرًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَتَيْتُہُمْ فَقَالُوا مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا ہَذِہِ الْحُلَّةُ قَالَ مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ الْحُلَلِ قَالَ أَبُو دَاوُد اسْمُ أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حروریہ (خارجیوں) کا ظہور ہوا اور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا،تو انہوں نے (مجھ سے) کہا کہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں۔تو میں نے ایک خوبصورت یمنی حلہ زیب تن کیا۔ابوزمیل نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بڑے خوبرو اور وجیہہ جوان تھے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ میں ان لوگوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے مرحبا کہا: اور بولے اے ابن عباس! یہ حلہ کیسا ہے؟ (یعنی آپ نے اسے کیونکر زیب تن کیا ہے؟) تو انہوں نے جواب دیا کہ تم مجھ پر کیا اعتراض کرتے ہو،حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو انتہائی خوبصورت حلہ زیب تن کیے دیکھا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوزمیل کا نام سماک بن ولید حنفی ہے۔