Sunan Abi Dawood Hadith 4040 (سنن أبي داود)

[4040]صحیح

صحیح بخاری (2612) صحیح مسلم (2068)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ نَافِعٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ،أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَی حُلَّةَ سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ تُبَاعُ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! لَوِ اشْتَرَيْتَ ہَذِہِ فَلَبِسْتَہَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ،وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّمَا يَلْبَسُ ہَذِہِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَہُ فِي الْآخِرَةِ. ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللہِ ﷺ مِنْہَا حُلَلٌ،فَأَعْطَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْہَا حُلَّةً،فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللہِ! كَسَوْتَنِيہَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَہَا لِتَلْبَسَہَا. فَكَسَاہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخًا لَہُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے کے پاس ایک دھاری دار ریشمی حلہ فروخت کیا جا رہا تھا۔تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور وفود کے استقبال کے موقع پر جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں،زیب تن فرمایا کریں (تو بہت خوب رہے۔) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘ بعد ازاں رسول اللہ ﷺ کے پاس اسی قسم کے حلے آ گئے تو آپ ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھی ان میں سے ایک حلہ عنایت فرمایا۔تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے یہ عطا فرما رہے ہیں،حالانکہ آپ نے عطارد والے حلے کے بارے میں ایسے ایسے فرمایا تھا،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں نے یہ تمہیں تمہارے اپنے پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔‘‘ چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو جو مکے میں تھا،دے دیا۔